• This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #12225
    Syed Muhammad
    Moderator

    خانہ کعبہ اور مسجد حرام کے ساتھ محبت و عقیدت کا جو اظہار اس سعودی معمر شخص نے کیا ہے، اس کی مثال تاریخ میں ملنا ناممکن ہے۔ ”عوض معوض الصبحی“ نامی اس معمر شخص کی عمر سوا سو سال سے زائد ہے۔ وہ گزشتہ 96 برس سے مسجدالحرام میں باجماعت نمازیں پڑھ رہے ہیں۔

    روزنامہ امت کے مطابق اس دوران صرف اس ایکبار ایسا ہوا کہ ”عوض الصبحی“ مسجد حرام میں باجماعت نمازیں نہ پڑھ سکے۔ یہ اس (1979ئ) کی بات ہے، جب حرم شریف پر باغیوں کا قبضہ ہوگیا تھا۔ اس دوران چند روز تک حرم شریف میں باجماعت نمازوں کا اہتمام ہی نہیں ہوسکتا تھا۔ اس کے علاوہ عوض الصبحی نے کبھی حرم شریف کی باجماعت نماز ترک کی۔

    وہ اس وقت مسجد حرام میں داخل ہوئے تھے، جب ان کی عمر صرف 16 برس تھی۔ اس کے بعد وہ حرم شریف کے ہوکر رہ گئے۔ اس دوران وہ ایک بار بھی مسجد حرام کی حدود سے باہر نہیں نکلے۔ اس لئے مکہ مکرمہ میں انہیں ”حمامة الحرم“ یعنی حرم شریف کے کبوتر کا نام دیا گیا ہے۔

    مکہ مکرمہ سے شائع ہونے والے اخبار ”مکہ نیوز“ کے مطابق عوض الصبحی اپنی پیرانہ سالی کے باوجود ہر نماز میں مسجد حرام کی پہلی صف میں موجود ہوتے ہیں۔ وہ اپنے اس معمول پر گزشتہ چھیانوے سے برس سے عمل پیرا ہیں۔ نماز کے بعد وہ دیوانہ وار مختلف دعائیں پڑھتے ہوئے کعبہ شریف کے گرد چکر لگانا شروع کردیتے تھے۔ پہلے وہ بغیر کسی سہارے کے خود طواف کیا کرتے تھے۔ اب وہ بہت کمزورہوچکے ہیں۔ مگر کمزوری کے باوجود بغیر وہیل چیئر کے صرف لاٹھی کے سہارے طواف کرتے ہیں۔ تاہم اب ان کی کمر بہت زیادہ جھک گئی ہے۔

    ان کا تعلق سعودی علاقے القاحہ سے ہے۔ وہ تقریباً ایک صدی پہلے مکہ مکرمہ منتقل ہوئے۔ ان کے دل میں کعبہ شریف کی بے حد محبت تھی۔ مکہ میں قیام کے دوران شروع میں وہ روزانہ حرم شریف جاتے اور تمام نمازیں وہاں باجماعت ادا کر کے صرف فجر کے بعد گھر واپس آتے۔ تقریباً 12 برس تک ان کا یہ معمول رہا۔ اس دوران مسجد الحرام کی تعمیر شروع ہوئی تو وہ اس میں کام کرنے لگ گئے۔ جب تک وہ اس تعمیراتی کمپنی (بن لادن گروپ) کے ساتھ منسلک رہے، وہ حرم شریف کے اندر ہی کام کرتے رہے۔

     اس سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد اسے حرم شریف میں ”بواب“ یعنی دربان کی ملازمت سے نوازاگیا۔ وہ مسجد حرام کے دروازوں پر ڈیوٹی سرانجام دینے لگے۔ اب ضعیف العمری میں وہ اس ملازمت سے بھی ریٹائرڈ ہوچکے ہیں۔ مگر دونوں ملازمتوں کی پنشن انہیں ملتی ہے۔ جس سے ان کا اچھا گزارہ چل رہا ہے۔

    عوض الصبحی گزشتہ 110 برس سے مسجد حرام میں مقیم ہیں۔ اس دوران وہ صرف ایک بار بیمار ہوئے اور ہسپتال لیجایا گیا۔ ان کے بیٹے عویض الصبحی کا کہنا ہے کہ جب سے میں نے اپنے والد کو دیکھا ہے وہ ہمیشہ (عیدین کے علاوہ) دن کو روزہ اور رات کو عبادت کرتے ہیں۔ صرف چند گھنٹے ہی آرام کرتے ہیں۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.