• This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #18297
    Aliya Sultan
    Participant

    ویب ڈیسک — چین میں آن لائن خرید و فروخت اور تجارت کی سب سے بڑی کمپنی علی بابا گروپ نے کہا ہے کہ حکومت کے کریک ڈاؤن کی وجہ سے حالیہ سہ ماہی میں اس کے منافع میں 81 فی صد کمی ہوئی ہے۔

    خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق علی بابا گروپ کا کہنا ہے کہ رواں ماہ جولائی تا ستمبر کی سہ ماہی میں اس کی آمدن 28 ارب یوآن سے کم ہو کر پانچ ارب یوان (کم و بیش 83 کروڑ ڈالر) تک آ گئی ہے۔

    خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق علی بابا گروپ نے اپنی سالانہ شرحِ نمو کی پیش گوئی میں بھی کمی کر دی ہے جس کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ میں اس کے حصص کی قیمت 11 فی صد کم ہو گئی ہے۔

    اگرچہ کمپنی نے اپنے حالیہ اندازوں میں یہ توقع بھی ظاہر کی ہے کہ آئندہ برس مارچ تک اس کی آمدن میں 20 سے 23 فی صد اضافہ ہو جائے گا، البتہ یہ 2014 میں اس کے حصص شیئر بازار میں آنے کے بعد کی سب سے کم شرح ہے۔

    علی بابا کے سی ای او ڈینئل ژینگ نے معاشی دباؤ اور چین میں ای-کامرس کے شعبے میں بڑھتی ہوئی مسابقت کو کمپنی کی آمدن میں کمی کا سبب قرار دیا ہے۔

    معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے بعد پیدا ہونے والے معاشی حالات میں چین کے شہری اخراجات کرنے میں زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔

    اس کے علاوہ مختلف اشیا کی رسد میں آنے والی رکاوٹیں بھی اس کا سبب ہیں۔ اس وجہ سے علی بابا سمیت چین میں ای کامرس کی دیگر کمپنیوں کی آمدن اور شرح نمو میں کمی آئی ہے۔

    ان معاشی اسباب کے علاوہ ماہرین چین کی حکومت کی جانب سے علی بابا سمیت ای-کامرس کے شعبے کے خلاف چین کی حکومت کے کڑے ضابطوں اور کریک ڈاؤن کو بھی ان کمپنیوں کی آمدن میں کمی کا باعث قرار دے رہے ہیں۔

    More on this story from VOA Urdu

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.