Jirga Pakistan

  • This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #18533
    Zaid
    Moderator

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ملک میں کام کرنے والی ایکسچینج کمپنیوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی شخص یومیہ دس ہزار امریکی ڈالر سے زیادہ اور سالانہ ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ کی نقد یا ترسیلات زر کی صورت میں خریداری نہ کرے۔
    مرکزی بینک کی جانب سے ڈالر کی خریداری پر ایک خاص حد سے زیادہ خریداری پر پابندی اس وقت لگائی گئی ہے جب ملک میں ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
    روپے کی قدر میں یہ کمی موجودگی سال میں مئی کے مہینے میں شروع ہوئی اور اس میں گراوٹ کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ اس وقت انٹر بینک میں ایک ڈالر کی پاکستانی روپے میں قیمت 178 روپے سے تجاوز کر چکی ہے اور اوپن مارکیٹ میں اس ایک ڈالر 181 پاکستانی روپوں میں فروخت ہو رہا ہے۔
    سٹیٹ بینک کی جانب سے ڈالر کی خریداری پر پابندی پر ماہرین اسے امریکی کرنسی کی ذخیرہ اندوزی پر قابو پانے کا اقدام قرار دے رہے ہیں۔
    ان کے مطابق ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کی وجہ سے اس کرنسی کی ذخیرہ اندوزی ہو رہی ہے اور افواہ سازی کی بنیاد پر اس کی قدر میں مزید اضافے کے امکان کی وجہ سے سرمایہ کار اس کی خریداری کر کے اس کی ذخیرہ اندوزی کر سکتے ہیں جس کی روک تھام سٹیٹ بینک چا رہا ہے۔
    تاہم ماہرین کے مطابق اس اقدام سے ڈالر کی بڑھتی قیمت پر کوئی فوری اثر نہیں پڑے گا جس کے لیے مرکزی بینک کو درآمدات کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے جو ڈالر کی قیمت میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔

    More on this story from BBC Urdu

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.