Jirga Pakistan

Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #7981
    M Khan
    Moderator

    60 سالہ افتخار واحد کو دو روز کے بعد ریٹائر ہو جانا تھا لیکن اس سے قبل وہ حملہ آوروں کا مقابلہ کرتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔

    افتخار واحد گذشتہ 10 برسوں سے پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سکیورٹی گارڈ کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

    پاکستان کے معاشی مرکز کراچی میں پیر کی صبح پاکستان سٹاک ایکسچینج کی عمارت پر مسلح افراد نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں چار حملہ آوروں سمیت سٹاک ایکسچینج کے دو سکیورٹی اہلکار اور ایک پولیس سب انسپیکٹر ہلاک ہوئے ہیں۔

    افتخار واحد داخلی دروازے پر واقع چوکی پر تعینات تھے جہاں حملہ آوروں نے اپنی گاڑی سے اتر کر پہلا حملہ کیا۔ اس چوکی اور گاڑیوں کے بیریئر پر متعدد گولیوں کے نشانات موجود ہیں۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں حملہ آوروں کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور پولیس حکام کے مطابق یہاں ہونے والے مسلح مقابلے میں دو حملہ آور اور دو سکیورٹی گارڈز ہلاک ہوئے۔

    پاکستان سٹاک ایکسچینج کی عمارت میں سکیورٹی کے تین حصار ہیں، داخلی راستے کے بیریئر کے بعد دوسرا گیٹ ہے اس کے بعد استقبالیہ اور آخری سکیورٹی پوسٹ ہے۔ اس کے بعد سٹاک ایکسچینج کی عمارت کا احاطہ شروع ہو جاتا ہے جبکہ عمارت کے داخلی راستے کے ساتھ عمارت پر ایک سنائپر بھی موجود ہوتا ہے۔ اس عمارت کی سکیورٹی کا انتظام ایک نجی سکیورٹی کمپنی کے پاس ہے۔

    نجی سکیورٹی کمپنی کے اپنے اہلکاروں کو کسی سے بات کرنے یا تفصیلات بتانے سے منع کیا گیا ہے۔ ایک باریش گارڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ صبح سے غمزدہ ہیں کیونکہ ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے ساتھی ہلاک ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ بار بار پانی پی رہے ہیں تاکہ شدت غم سے بیہوش نہ ہو جائیں۔

    ہلاک ہونے والے سکیورٹی گارڈ افتخار واحد کا گھر سٹاک ایکسچینج کی عمارت کے عقب میں موجود ریلوے کالونی میں واقع ہے، جہاں واقعے کے بعد لوگ تعزیت کے لیے آ رہے ہیں۔ واحد کے بڑے بیٹے عزاج واحد تعزیت وصول کر رہے ہیں۔ عزاج واحد جسمانی طور پر معذور ہیں اور کوئی کام کاج کرنے سے قاصر ہیں۔

    عزاج واحد نے بتایا کہ انھوں نے صبح کے وقت فائرنگ کی آواز سنی تھی اور بعد میں لوگوں نے بتایا کہ سٹاک ایکسچینج پر حملہ ہوا ہے اور کچھ لوگ زخمی ہوئے ہیں، وہ جب وہاں پہنچے تو سکیورٹی گارڈز نے بتایا کہ ان کے والد بھی زخمی تھے جنھیں سول ہسپتال پہنچایا گیا ہے، وہاں جا کر عزاج کو پتا چلا کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

    عزاج واحد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’والد گذشتہ دس سال سے سٹاک ایکسچینج میں ملازمت کر رہے تھے، انھوں نے 12 ہزار روپے ماہانہ سے اس ملازمت کا آغاز کیا تھا اور اب ان کی تنخواہ 18 ہزار روپے تھی، وہ صبح سات بجے سے شام سات بجے تک ڈیوٹی کرتے تھے۔‘

    افتخار واحد کے چار بچے ہیں جن میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، بڑے بیٹے عزاج واحد نے بتایا کہ والد ہی گھر کے واحد کفیل تھے کیونکہ وہ معذوری کی وجہ سے کام نہیں کر سکتے جبکہ دوسرے بہن بھائی ابھی چھوٹے ہیں۔

    ’کمپنی نے 55 سے 60 سال کی عمر کے لوگوں کو فارغ کرنے کا لیٹر جاری کر دیا تھا، یکم جولائی سے والد کو فارغ ہونا تھا اور وہ سوچ رہے تھے کہ خیبر پختونخوا کے علاقے دیر میں واقع اپنے آبائی گاؤں چلے جائیں اور وہاں روزگار تلاش کریں لیکن اس سے قبل یہ حادثہ ہوگیا۔‘

    افتخار واحد خاندان کے دیگر رشتے داروں کے ساتھ مشترکہ گھر میں رہتے تھے، جو ریلوے کی زمین پر بنایا گیا ہے۔

    عزاج واحد کے مطابق ‘کسی بھی وقت ریلوے یہ گھر خالی کروا سکتی ہے‘۔

    انھوں نے کہا کہ ان کی دو بہنیں ہیں جن کی شادی کا انتظام کرنا ہے جبکہ بھائی بھی زیر تعلیم ہے اور مدد کے بغیر یہ سب ممکن نہیں ہو سکے گا، کیونکہ ’کمپنی سے تو کچھ ملنا نہیں تھا، وہاں تو نوکری ختم، تعلق بھی ختم۔‘

    افتخار واحد نے ملازمت کی ابتدا ’2 کے‘ بس میں کنڈیکٹر کے طور پر کی تھی اور اس کے ساتھ وہ الیکٹریشن کا بھی کام جانتے تھے، لیکن یہ ملازمت انھیں چھوڑنا پڑی۔ افتخار کے چچا محمد واحد کا کہنا ہے کہ 2 کے بس کی لائن بند ہوگئی کیونکہ شہر میں چنگچی رکشہ آ گئے، اس کے بعد افتخار نے کرائے پر رکشہ چلانا شروع کیا لیکن اس سے بھی گزر بسر نہیں ہوتا تھا۔

    بہت تگ و دو کے بعد بالاآخر افتخار کو گھر سے چند فرلانگ دور سٹاک ایکسچینج میں سکیورٹی گارڈ کی ملازمت مل گئی، ان کے کزن عجب گل کے مطابق چونکہ ملازمت کی یہ جگہ قریب تھی اور کرائے کے پیسے بچ جاتے تھے اس لیے انھوں نے یہ ملازمت اختیار کر لی۔

    سٹاک ایکسچینج میں سکیورٹی پر مامور نجی کمپنی کے محافظ اداس اور خاموش ہیں۔

    بی بی سی نے ایک سپروائیزر سے معلوم کیا کہ جو گارڈ زخمی ہیں یا ہلاک ہوئے ہیں انھیں کمپنی کی طرف سے کیا معاوضہ ملے گا تو ان کا کہنا تھا کہ ‘نہ پہلے کبھی دیکھا ہے اور نہ سنا ہے کہ ایسا کچھ ہوا ہو۔’

    اس سکیورٹی کمپنی کی گاڑی پر تعینات ایک انچارج نے بتایا کہ ان کے سپروائزر سابق کمانڈو ہیں۔ انھوں نے اپنے کندھے پر تحریر دکھاتے ہوئے بتایا کہ وہ آرمی سے ریٹائر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’کمپنی ہرممکن مدد کرتی ہے، لاش بھی پہنچاتی ہے اور معاوضہ بھی دے گی۔’

    پاکستان سٹاک بورڈ کے چیئرمین سلیمان مہدی کا کہنا ہے کہ ان کے سکیورٹی انتظامات کی وجہ سے یہ حملہ ناکام ہوا ہے، جس میں فورسز کے ساتھ ان کی محافظوں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

    نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے مرکزی سیکریٹری جنرل ناصر منصور نے الزام عائد کیا ہے کہ ’نجی سکیورٹی کمپنیوں کے مالکان ملازمین کا استحصال کرتے ہیں، یہ ریٹائر افسران اپنے سابق اداروں کا نام استعمال کر رہے ہیں‘۔

    وہ کہتے ہیں ‘سکیورٹی کمپنیاں ورکرز کیٹگری میں شامل ہیں، ان کے ملازم ‘سکِلڈ ورکر’ ہیں اس لیے ان کی آٹھ گھنٹے کی کم از کم تنخواہ ساڑھے سترہ ہزار سے زائد ہونی چاہیے، انھیں سوشل سکیورٹی کے ادارے، ای او بی آئی کے پاس رجسٹرڈ ہونا چاہیے اور جو سالانہ منافع ہوتا ہے اس کا پانچ فیصد انھیں ملنا چاہیے۔

    افتخار واحد پیر کی صبح جب گھر سے نکلے تو عزاج و دیگر بھائی بہن سو رہے تھے اس لیے وہ انھیں دیکھ نہیں سکے تھے۔

    تین بجے ان کی گلی میں ایمبولینس والد کی میت لے کر آئی، ان چند گھنٹوں میں اس گھرانے کی دنیا ہی بدل چکی تھی۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.