Jirga Pakistan

Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #7979
    M Khan
    Moderator

    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے تجارتی مرکز ‘پاکستان اسٹاک ایکسچینج’ پر پیر کی صبح نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں پولیس افسر سمیت تین افراد ہلاک جب کہ جوابی کارروائی میں چاروں حملہ آور مارے گئے ہیں۔

    ​کراچی پولیس اور سندھ رینجرز کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث تمام ملزمان کو محض آٹھ منٹ میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

    کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن اور ڈائریکٹر جنرل سندھ رینجرز میجر جنرل عمر احمد بخاری نے نیوز بریفنگ کے دوران بتایا کہ ایک کار میں سوار چار دہشت گرد کراچی اسٹاک ایکسچینج کے پارکنگ ایریا پر صبح دس بج کر دو منٹ پر پہنچے۔

    ڈی جی رینجرز سندھ کے مطابق پولیس اور رینجرز نے مشترکہ کارروائی میں آٹھ منٹ میں دہشت گردوں کو اسٹاک ایکسچینج کے داخلی راستے پر ہی مار ڈالا اور اُنہیں اہداف حاصل کرنے نہیں دیے

    میجر جرنل عمر احمد کے بقول پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے اور دو برس قبل چین کے قونصل خانے پر ہونے والے حملے میں مماثلت ہے۔

    کراچی پولیس چیف غلام نبی مہمن کا اُس موقع پر کہنا تھا کہ بہتر رسپانس کی وجہ سے دہشت گرد اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہشت گرد نیٹ ورک کے کچھ لوگوں کو پہلے پکڑا جا چکا تھا جن کے سہولت کار اب بھی موجود ہیں۔ ان کے بقول دہشت گردوں نے دلبرداشتہ ہو کر کارروائی کی تھی۔

    ترجمان کراچی پولیس کے مطابق ​حملہ آوروں سے فائرنگ کے تبادلے میں تین پولیس اہلکار، نجی کمپنی کے دو محافظ، اسٹاک ایکسچینج کا ایک ملازم اور ایک شہری زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ پر تفتیشی ٹیمیں شواہد اکھٹے کر رہی ہیں۔

    دوسری جانب بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ نے کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ​

    ‘بی ایل اے’ سے منسلک ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری ٹوئٹ میں حملہ کرنے والے چار مبینہ مسلح افراد کی تصاویر جاری کی ہیں اور کہا ہے کہ بی ایل اے کی مجید بریگیڈ کے ارکان نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کیا ہے۔

    تاہم اس ٹوئٹر اکاؤنٹ کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی پاکستان کے حکام نے اس کی تصدیق کی ہے۔

    یاد رہے کہ نومبر 2018 میں بی ایل اے نے کراچی میں ہی چین کے قونصل خانے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.