Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #9787
    Shaista Khan
    Participant

    چین میں ہونے والی نئی طبی تحقیق میں دریافت کیا گیا ہے کہ ماں کا دودھ نومولود بچوں کو کرونا سے بچانے اور علاج میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

    غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بیجنگ یونیورسٹی آف کیمیکل ٹیکنالوجی میں ہونے والی تحقیق نے ماں کے دودھ کو کروناوائرس کے خلاف مفید اور مؤثر قرار دے دیا، جو ناصرف نومولود بچوں کو مہلک وائرس سے محفوظ رکھتا ہے بلکہ علاج کے دوران مددگار بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ریسرچ کے دوران جانوروں کے گردوں کے ساتھ ساتھ نوجوان انسانی پھیپھڑوں اور معدے کے کرونا متاثرہ خلیات میں دودھ کے اثرات کا جائزہ لیا گیا، دودھ کے یہ نمونے 2017 میں اکٹھے کیے گئے تھے، نتائج سے ثابت ہوا کہ اکثر وائرس کی اقسام اس دودھ سے مرجاتی ہیں۔تحقیق کے ایک اور مرحلے میں صحت مند انسانی خلیات کو دودھ میں اچھی طرح ملا کر دودھ الگ کرلیا گیا، بعد ازاں مذکورہ خلیات کو وائرس سے متاثر کیا گیا، اس مشاہدے کے دوران لگ بھگ تمام خلیات میں وائرس کے جکڑنے یا داخلے کے آثار نہیں ملے جبکہ علاج سے بھی متاثرہ خلیات میں وائرس کی نقول بنانے کے عمل کو روکنے میں کامیابی ملی۔

    محققین کا کہنا ہے کہ ماں کا دودھ وائرس کے خلاف بہت مفید ہے، یہ بیکٹریا اور وائرسز جیسے ایچ آئی وی کے اثرات کو بھی دبا سکتا ہے، ماں کے دودھ میں موجود اینٹی وائرل پروٹینز سے متعلق کرونا وائرس میں حساسیت پائی جاتی ہے، لیکن اس تحقیق میں پروٹینز کی بجائے دیگر عناصر وائرس کو ناکارہ بنانے میں مددگار ثابت ہوئے۔

    ماہرین کا ماننا ہے کہ ماں کا دودھ انسانی خلیات کی نشوونما بھی کرتا ہے، یہ دودھ وائرس کے داخلے، خلیات سے جڑنے اور بیماری سے متاثر ہونے پر وائرس کی نقول بنانے کو بلاک کرتا ہے۔

    اس کے علاوہ گائے اور بھیڑ کا دودھ زندہ وائرس اقسام کو ستر فیصد تک دبانے میں کامیاب رہتے ہیں جبکہ انسانی دودھ کی افادیت لگ بھگ سوفیصد کے قریب ہے۔

    This article originally appeared on Daily Nawaei Waqt

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.