• This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #11008
    Shaista Khan
    Participant

       عالمی کرونا وبا کے دوران فیس ماسک کی ضرورت اور اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، کئی طبی ماہرین ماسک کو ویکسین کا متبادل بھی قرار دیتے ہیں۔

    فیس ماسک کے حوالے سےدنیا بھر میں مختلف تحقیقی رپورٹس تیار کی جاچکی ہیں جس میں کرونا کے خلاف ماسک کو ناگزیر قرار دیا گیا۔ اسی ضمن امریکا میں ہونے والی طبی تحقیق میں بھی کہا گیا ہے کہ فیس ماسک کروناوائرس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

    ایم کیو ایم کے رہنما عادل صدیقی کورونا کے باعث انتقال کر گئے

    اس تحقیق میں ماہرین نے مختلف فاصلوں سے منہ یا ناک سے خارج ہونے والے ذرات کی مقدار کی جانچ پڑتال فیس ماسک یا اس کے بغیر کی جس سے یہ بھی دریافت ہوا کہ ماسک کتنے دور اور قریب سے مؤثر ہوتے ہیں۔

    تحقیق کے مطابق1 فٹ کے فاصلے پر موجود دونوں افراد نے ماسک نہ پہنے ہوئے ہوں تو پھر وائرل ذرات سے کووڈ 19 کا خطرہ سوفیصد تک ہوتا ہے، اور اگر وہی دونوں افراد 3 فٹ کی دوری پر ہوں تو 17 فیصد تک خطرات ہوتے ہیں۔ جبکہ 6 فٹ دوری پر یہ خطرہ 3 فٹ رہ جاتا ہے، فیس ماسک کے ساتھ سماجی فاصلہ بھی ضروری ہے۔

    ماہرین نے بتایا کہ 3 فٹ کا سماجی فاصلہ کرونا سے بچاؤ کے لیے مددگار رہتا ہے لیکن اگر 6 فٹ فیصلہ اختیار کیا جائے تو یہ مثالی رہے گا۔ اور اگر دونوں افراد نے ماسک پہنا ہو تو ایک فٹ کی دوری سے بھی یہ خطرہ 0.5 فیصد سے بھی کم ہوتا ہے، اس طرح ہم فیس ماسک استعمال کرکے کرونا کا خطرہ تقریباً ختم کرسکتے ہیں۔

    پیچیدگیوں کے باعث حمل ضائع ہوگیا:میگھن مارکل

    اس ریسرچ میں شامل محققین کا کہنا ہے فیس ماسک کرونا کا خطرہ کم کرنے کے لیے اہم ذریعہ ہے، وائرل ذرات کے تحفظ کے حوالے سے فیس ماسکس کی اقسام میں کوئی فرق دریافت نہیں کیا، فیس ماسک اور سماجی فاصلے کے علاوہ دیگر احتیاطی تدابیر اپنانا بھی بے حد ضروری ہے جن میں ہاتھ دھونا یا ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال قابل ذکر ہیں۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.