• This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #12681
    Azam
    Moderator

     واشنگٹن (آن لائن) مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ اگر دنیا کو بچانا ہے تو گوشت کا استعمال بند کرنا ہو گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بل گیٹس نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کو روکنے کے لئے امریکہ اور دوسرے دولت مندممالک کو سو فیصد مصنوعی گائے کے گوشت کی طرف بڑھنا چاہئے۔

    بل گیٹس نے جریدے `ٹیکنالوجی ریویو` میں اتوار کے روز شائع ہونے والے ایک مضمون میں بتایا کہ “مجھے لگتا ہے کہ تمام امیر ممالک کو 100 فیصد مصنوعی گوشت (synthetic beef) استعمال کرنا چاہئے۔ آپ ذائقہ کے فرق کے عادی ہو سکتے ہیں، اور دعویٰ ہے کہ وہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کا ذائقہ مزید بہتر بنائیں گے۔ آخر کار ، یہ گرین پریمیم کافی حد تک تنوع پذیر ہے کہ آپ لوگوں [کی پسند] کو تبدیل کرسکتے ہیں یا قوانین کے نفاذ سے طلب کو اس جانب موڑ سکتے ہیں”-

    انہوں نے کہا کہ گائیں اور دیگر جانور گھاس کھا کر میتھین تیار کرتے ہیں جو ایک طاقتور گرین ہاؤس گیس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میتھین کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں گرمی کم کرنے میں 28 گنا زیادہ موثر ہے۔


    Photo: World Economic Forum

    ایک طرف تو بل گیٹس کے ان خیالات کو پزیرائی نہ مل سکی، دوسری طرف سوشل میڈیا پر منفی رد عمل بھی سامنے آ رہا ہے- ایک صارف نے لکھا کہ `Take A Hike` یعنی `جاؤ ادھر سے` جو انگریزی محاورے میں چڑچڑا پن اور غم و غصے کے اظہار کے طور پر استعمال ہوتا ہے-

    تبصرہ نگار پال جوزف واٹسن نے ٹویٹ کیا کہ “آپ تو 3D پرنٹر سے نکلا پلاسٹک میٹ کھا رہے ہونگے، مگر وہ [گیٹس] اور Davos میں اس کے دوست نہیں”- انہوں نے مزید لکھا کہ گیٹس خود ایک گوشت خور ہے جس نے ہیمبرگر کو اپنا پسندیدہ کھانا قرار دیا ہے”۔

    اصل جانور کسی بھی انسانی ترقی یافتہ ٹیکنالوجی سے کہیں زیادہ کارآمد ہوتے ہیں ، جیسا کہ ایک ٹویٹر صارف واٹسن نے لکھا کہ بل گیٹس نے “ان گنت کسانوں کو کاروبار سے باہر کر دیا ہے، اس لیے کہ وہ ریکارڈ تعداد میں زرعی زمینوں کی خریداری کرتا ہے اور عالمی سطح پر خوراک کی پیداوار میں اجارہ داری قائم کرتا ہے۔”

    ان خیالات کے اظہار میں واٹسن اکیلا نہیں، بلکہ دوسروں نے بھی بتایا کہ گیٹس نے اب تک 19 امریکی ریاستوں میں 268،000 ایکڑ اراضی حاصل کرلی ہے۔

    کانگریس کے رکن تھامس مسی نے ایک مختلف زاویئے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی “ایک عرصے تک اصلی گائے کا گوشت کھائیں گے، کیونکہ ہم 27.9 ٹریلین ڈالر کے قرضے میں ہیں، اور گیٹس صرف “امیر” قوموں کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں”۔

    خیال رہے کہ دنیا کے بعض ممالک میں مصنوعی طریقے سے بنائے گئے گوشت کا استعمال شروع ہو چکا ہے۔

    گزشتہ دنوں سنگاپور نے لیبارٹری میں تیار کردہ گوشت سے نگٹس تیار کرنے کی منظوری دی تھی۔ امریکی کمپنی ایٹ جسٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے لیبارٹری میں تیار کردہ گوشت کو سنگاپور میں فروخت کرنے کی منظوری مل گئی ہے۔سان فرانسسکو میں قائم امریکی کمپنی ایٹ جسٹ کے سربراہ جوش ٹیٹرک کا کہنا تھا کہ سنگاپور کی جانب سے ملنے والی منظوری فوڈ انڈسٹری کے لیے نہایت اہم سنگ میل ثابت ہو گی۔

    جوش ٹیٹرک کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کی امید رکھتے ہیں کہ آئندہ سالوں میں گوشت کے حصول کے کی خاطر کسی بھی جانور کو مارنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‎

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.