• This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #10438
    Azam
    Moderator

    سمجھتا ہوں کہ تو مجھ سے جدا ہے

    شب فرقت مجھے کیا ہو گیا ہے

    ترا غم کیا ہے بس یہ جانتا ہوں

    کہ میری زندگی مجھ سے خفا ہے

    کبھی خوش کر گئی مجھ کو تری یاد

    کبھی آنکھوں میں آنسو آ گیا ہے

    حجابوں کو سمجھ بیٹھا میں جلوہ

    نگاہوں کو بڑا دھوکا ہوا ہے

    بہت دور اب ہے دل سے یاد تیری

    محبت کا زمانہ آ رہا ہے

    نہ جی خوش کر سکا تیرا کرم بھی

    محبت کو بڑا دھوکا رہا ہے

    کبھی تڑپا گیا ہے دل ترا غم

    کبھی دل کو سہارا دے گیا ہے

    شکایت تیری دل سے کرتے کرتے

    اچانک پیار تجھ پر آ گیا ہے

    جسے چونکا کے تو نے پھیر لی آنکھ

    وہ تیرا درد اب تک جاگتا ہے

    جہاں ہے موجزن رنگینیٔ حسن

    وہیں دل کا کنول لہرا رہا ہے

    گلابی ہوتی جاتی ہیں فضائیں

    کوئی اس رنگ سے شرما رہا ہے

    محبت تجھ سے تھی قبل از محبت

    کچھ ایسا یاد مجھ کو آ رہا ہے

    جدا آغاز سے انجام سے دور

    محبت اک مسلسل ماجرا ہے

    خدا حافظ مگر اب زندگی میں

    فقط اپنا سہارا رہ گیا ہے

    محبت میں فراقؔ اتنا نہ غم کر

    زمانے میں یہی ہوتا رہا ہے

     

    فراق گورکھپوری مصنف، ادیب، نقاد اور شاعر تھے۔ اُن کا شمار بیسویں صدی کے اردو زبان کے صفِ اول کے شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کا اصل نام رگھو پتی سہائے تھا۔

    جدید شاعری میں فراق کا مقام بہت بلند ہے۔ آج کی شاعری پر فراق کے اثر کو باآسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ بہترین شخصیت کے مالک تھے حاضر جوابی میں ان کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ بین الاقوامی ادب سے بھی شغف رہا۔ تنقید میں رومانی تنقید کی ابتدا فراق سے ہوئی۔

     وہ 28 اگست 1896ء کو پیدا ہوئے اور 3 مارچ 1982ء کو وفات پائی۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.