• This topic is empty.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #14918
    admin
    Keymaster

    کووڈ 19 کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد 2 سال کا بچہ قرنطینہ میں، (فوٹو: پاک جرگہ)

    بچے کووڈ 19 کی زد میں آ سکتے ہیں لیکن شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ بڑوں کے مقابلے میں ان کے شدید طور پر بیمار ہونے کے امکانات کم ہیں اور ابھی تک ایسا لگتا ہے کہ ان سے وائرس کے پھیلنے کا امکان بھی کم ہے۔

    ماہرین کے مطابق بیشتر بچے جو کورونا سے متاثر ہیں ان میں عام طور پر ہلکا بخار، کھانسی، زکام، سانس لینے میں دقت، تھکان، گلے میں خراش، دست، ذائقہ ختم ہو جانا، سونگھنے کی قوت کم ہو جانا، بدن درد اور ناک بہنے جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ کچھ بچوں میں معدے سے متعلق مسائل کے علاوہ کچھ دیگر علامات بھی ظاہر ہوئی ہیں۔

    یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی جس میں امریکا بھر میں کووڈ سے متاثر 12 ہزار سے زیادہ بچوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

    طبی جریدے ساننٹیفک رپورٹس میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 18.8 فیصد بچوں میں بخار، خسرہ، مسل یا جوڑوں کی تکلیف اور سونگھنے یا چکھنے کی حسیں متاثر ہونا کووڈ کی علامات تھیں۔

    اسی طرح 16.5 فیصد بچوں میں نظام تنفس کی علامات جیسے کھانسی اور سانس لینے میں مشکلات دیکھنے میں آئیں۔

    13.9 فیصد میں نظام ہاضمہ کی علاماتا جیسے قے، متلی اور ہیضہ نمایاں تھیں جبکہ 8.1 فیصد کو جلد کی خارش کا سامنا ہوا اور 4.8 فیصد میں سردرد کو دیکھا گیا۔

    اس تحقیق میں جس ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا اس کے مطابق 5.5 فیصد (672) بچوں کو بیماری کے باعث داخل ہونا پڑا۔

    ان میں سے 118 کو آئی سی یو جبکہ 38 کو وینٹی لیٹر کی ضرورٹ پڑی۔

    طبی جریدے ساننٹیفک رپورٹس میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 18.8 فیصد بچوں میں بخار، خسرہ، مسل یا جوڑوں کی تکلیف اور سونگھنے یا چکھنے کی حسیں متاثر ہونا کووڈ کی علامات تھیں۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.