• This topic has 0 replies, 1 voice, and was last updated 4 months ago by Zaid.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #9610
    Zaid
    Moderator

    کویت کی قومی اسمبلی نے تارکینِ وطن کی تعداد میں کمی کرنے کے لیے قانون کی منظوری دی۔ چھ ماہ کے اندر حکومت قواعد و ضوابط طے کرکے غیر ملکی افراد کی بے دخلی شروع کرے گی اور اس سے پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے تارکین وطن زیادہ متاثر ہوں گے۔ 

    کویت ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق نئے قانون میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ تارکینِ وطن کی تعداد میں کتنے فی صد کمی کی جائے گی۔ یہ حکومت پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ ضروریات کے تحت فیصلہ کرے۔ 

    کویتی پارلیمان کے رکن اور انسانی وسائل ترقی کمیٹی کے سربراہ خلیل الصالح نے بتایا کہ پینل نے آٹھ مختلف قوانین کے جائزے کے بعد یہ قانون تیار کیا ہے۔ اس قانون کا مقصد کویت میں تارکین وطن بالخصوص غیر ہُنرمند افرادی قوت کی تعداد میں کمی لانا ہے اور کویت کی آبادی کی تشکیل نو ہے کیونکہ ملک میں غیرملکیوں کی تعداد مقامی آبادی سے کہیں زیادہ ہے۔ 

    قانون میں حکومت کو غیر ملکیوں کی کویت میں تعداد کے بارے میں نئے قواعد وضوابط کے اجرا کے لیے چھے ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔ کویتی حکومت اب مختلف شعبوں میں بھرتی کیے جانے والے تارکین وطن کی تعداد کا ازخود تعیّن بھی کرے گی۔ 

    بعض تارکین وطن کو اس قانون سے استثنا حاصل ہوگا۔ ان میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک سے تعلق رکھنے والے شہری، ججز، شہری ہوابازی کے شعبے میں کام کرنے والے افراد، گھریلو ملازمین، بڑے منصوبوں پر کام کرنے والے ورکر، طبی اور تعلیمی عملہ، کویتی مردوں کی غیرملکی بیویاں یا کویتی خواتین کے غیر ملکی شوہر اور ان کے بچے شامل ہیں۔ 

    ان نئے قواعد وضوابط کے تحت حکومت ملک میں تارکین وطن کی تعداد میں تین لاکھ 60 ہزار تک کمی کرنا چاہتی ہے۔ ان میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ تارکین وطن کی عمریں 60 سال سے زیادہ ہیں۔ واضح رہے کہ کویت میں تارکین وطن کل آبادی کا قریباً 70 فی صد ہیں۔ 

    This article originally appeared on Samaa TV

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.