Jirga Pakistan

Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #9304
    Zaid
    Moderator

    کیماڑی باضابطہ کراچی کا ساتواں ضلع بن گیا، سندھ حکومت نے ہفتے کو نوٹيفکيشن جاری کردیا۔

    کراچی کے اس نئے ضلعے کے نوٹیفکیشن کے مطابق کیماڑی ضلع میں 4 سب ڈویژن اور 11 دیہہ شامل ہوں گے۔

    یاد رہے کہ سندھ کی صوبائی کابینہ نے 20 اگست 2020ء کو کراچی میں کیماڑی کے نام سے ایک نیا ضلع بنانے کی منظوری دی تھی۔

    اس نوٹیفکیشن کے اجراء سے قبل کراچی میں 6 اضلاع تھے جن میں جنوبی، شرقی، غربی، ملیر، کورنگی اور وسطی شامل ہیں تاہم اب شہر میں ساتویں ضلعے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔

    سما ٹی وی  کے مطابق  ضلع غربی کراچی ہی نہیں بلکہ پورے صوبے کا سب سے بڑا ضلع تھا اور اب اس کے جنوب مغربی سب ڈویژنوں سائٹ، بلدیہ، ہاربر اور ماڑی پور کو علیحدہ کرکے یہ نیا کیماڑی ضلع بنایا گیا ہے۔

    حکومت سندھ کے اس فیصلے پر حزب اختلاف کی جماعتوں نے کڑی تنقید کی تھی تاہم حکومت کا مؤقف یہ تھا کہ ضلع غربی کا انتظام چلانے میں بہت مسائل پیدا ہورہے تھے، اس وجہ سے نیا ضلع بنایا گیا ہے۔

    مخالف جماعتوں کا مؤقف یہ تھا کہ نئے ضلع کے قیام کا انتظامی امور سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ کراچی کی انتخابی سیاست میں صوبائی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی پوزیشن کو بہتر بنانے کی کوشش ہے۔ حزب اختلاف کے مطابق صوبائی حکومت اصل ہدف آئندہ بلدیاتی انتخابات میں پہلے سے زیادہ نشستیں جیتنا ہے۔

    حزب اختلاف کے ان الزامات کو اس بات سے تقویت ملتی ہے کہ نئے ضلع میں اردو بولنے والوں کی آبادی کراچی کے وسطی اور شرقی علاقوں کی نسبت بہت کم ہے، جس سے حکمران جماعت کو یہاں ہونے والے انتخابات میں فائدہ ہوسکتا ہے کیونکہ کراچی کے اردو بولنے والے باشندے اکثر پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ نہیں دیتے جبکہ 2018ء کے الیکشن سمیت پچھلے 4 میں سے 2 عام انتخابات میں کیماڑی کے علاقے پر مشتمل قومی اسمبلی کی نشست پر بھی اسی جماعت نے کامیابی حاصل کی ہے۔

    دوسری طرف شہر کی 6 ضلعی حکومتوں میں سے صرف ملیر کی حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس ہے لہٰذا اس بات کا قوی امکان ہے کہ پارٹی شہر میں اپنا انتخابی اثر و رسوخ بڑھانا چاہتی ہو۔

    سن 1947ء سے لے کر اب تک کراچی میں ہونے والی اہم انتظامی تبدیلیوں کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔

    1948

    کراچی کو وفاقی دارالحکومت بنادیا گیا جس کی وجہ سے یہ شہر سندھ سے انتظامی طور پر علیحدہ ہوکر وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام چلا گیا۔

    1955

    ون یونٹ پالیسی کے تحت پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنادیا گیا جس سے صوبہ سندھ کی علیحدہ قانونی اور آئینی حیثیت ختم ہوگئی اور کراچی پر اس کی رہی سہی علامتی عملداری بھی ختم ہوگئی۔

    1959

    وفاقی دارالحکومت کراچی سے راولپنڈی منتقل ہوگیا لیکن کراچی کا انتظام وفاقی حکومت کے ماتحت ہی رہا۔

    1970

    ون یونٹ کا خاتمہ ہوا جس سے صوبہ سندھ بحال ہوگیا اور 22 سال بعد پہلی بار کراچی سیاسی اور انتظامی اعتبار سے اس صوبے کا حصہ بن گیا۔ اس وقت کراچی ایک کمشنری یا ڈویژن تھا، جس میں 3 اضلاع یعنی کراچی ایسٹ، کراچی ویسٹ اور کراچی ساؤتھ شامل تھے۔

    1987

    ضلع وسطی کا قیام امن میں لایا گیا۔

    1994

    پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے کراچی ایسٹ کے کچھ شہری اور دیہاتی علاقے علیحدہ کرکے ان پر مشتمل ایک نیا ضلع ملیر قائم کیا۔

    2001

    سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے عہد حکومت میں بنائے گئے مقامی حکومتوں کے قانون کے تحت کراچی ڈویژن کا خاتمہ کرکے پورے شہر کو ایک سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے ماتحت کردیا گیا۔ اس نظام کے تحت حکومتی اختیار 18 ٹاؤنز میں بانٹ دیا گیا، جس کے نتیجے میں ضلعوں کی تقسیم کاغذوں پر موجود ہونے کے باوجود بے معنی ہوگئی۔ اسی زمانے میں ملیر کا علیحدہ ضلع ختم کرکے اسے دوبارہ ڈسٹرکٹ ایسٹ میں شامل کردیا گیا۔

    2009

    ایم کیو ایم کی سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کا دور اپنے اختتام کو پہنچا اور مقامی حکومتوں کے انتخابات اور ان کے نتیجے میں بننے والے ٹاؤنز کی سیاسی اور انتظامی اہمیت ختم ہوگئی۔

    2011

    پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے ملیر ضلع بحال کرکے کراچی کو دوبارہ ایک ڈویژن قرار دے دیا۔

    2013

    پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے کراچی ایسٹ کو تقسیم کرکے ایک نیا کورنگی ضلع بنایا۔

    2016

    پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے بنائے ہوئے مقامی حکومتوں کے قانون کے تحت کراچی میں ایک میٹروپولیٹن کارپوریشن، 5 ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنز اور ایک ضلع کونسل قائم ہوئی۔

    کراچی کی جغرافیائی حدود میں شامل تمام گوٹھوں اور دیہی علاقوں کو میٹروپولیٹن کارپوریشن کی عملداری سے نکال کر انہیں ضلع کونسل کے دائرہ اختیار میں دے دیا گیا ہے۔

    بشکریہ سما ٹی وی

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.