• This topic has 0 replies, 1 voice, and was last updated 1 week ago by Shaista Khan.
Viewing 1 post (of 1 total)

  • Author
    Posts
  • #8487
    Shaista Khan
    Participant

     ویب ڈیسک –  انٹرنیٹ کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے کورونا وبا کے پیش نظر اپنے ملازمین کو آئندہ سال کے وسط تک گھروں سے کام کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔

    امریکی ادارے گوگل نے کورونا وبا کے خطرات سے ملازمین کو بچانے کے لیے گھروں سے کام کرنے کی اجازت دی تھی اور اب عمل کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    پیر کے روز گوگل نے بذریعہ ای میل ہدایات جاری کیں کہ گھروں سے کام کرنے والے ملازمین آئندہ سال جولائی تک اسی طرح امور انجام دیں گے۔

    چیف ایگزیکٹو سندر پچائی کی جانب سے کی گئی ای میل میں کہا گیا ہے کہ ہم گھروں سے کام کرنے کے عمل کو توسیع دیتے ہوئے ‘ورک فرام ہوم’ کے آپشن کو 30 جون 2021 تک جاری رکھیں گے۔

    انہوں نے آئندہ کے منصوبے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملازمین کو ان کی صلاحیت کے ساتھ آگے بڑھانا ہے اور نئے احکامات کے تحت انہیں دفتر آنے کی ضرورت نہیں ہے۔

    وال اسٹریٹ جنرل نے چند روز قبل خبر شائع کی تھی گوگل اپنے قریباً دو لاکھ ملازمین اور دنیا بھر میں پھیلے کنٹریکٹرز کو گھروں میں کام کرنے کی اجازت میں جنوری تک کی توسیع کرنے جارہا ہے۔

    گوگل کے فیصلے پر دیگر ٹیکنالوجی کے بڑے اداروں نے کورونا وبا میں کمی پر بتدریج اپنے دفاتر کھولنے کی حکمت عملی اپنائی ہے جب کہ ٹوئٹر نے اپنے ملازمین سے کہا ہے کہ وہ متبادل پالیسی اپناتے ہوئے اپنی سہولت کے مطابق امور انجام دیں۔

    بیشتر ٹیک کمپنیوں نے اعلان کیا ہے کہ زیادہ تر ملازمین 2020 کے آخر تک گھر سے کام کر سکتے ہیں۔ ایمیزون اور ایپل نے کہا ہے کہ جنوری میں کارکن واپس آجائیں۔ ٹویٹر نے ملازمین کو (اگر وہ چاہیں تو) “ہمیشہ کے لئے” گھر سے کام کرنے کی اجازت دی ہے۔

    گوگل کی طرح فیس بک بھی طویل مدتی طریقہ اختیار کررہا ہے کہ ملازمین کب کام پر واپس آئیں گے۔ مئی میں، سی ای او مارک زکربرگ نے کہا تھا کہ فیس بک اپنے 50،000 ملازمین میں سے بیشتر کو مستقل بنیادوں پر گھر سے کام کرنے کی اجازت دینا شروع کردے گی۔ زکربرگ نے کہا کہ اگلے پانچ سے 10 سالوں میں وہ توقع کرتے ہیں کہ فیس بک کے تقریبا 50٪ ملازمین گھر سے کام کریں گے۔

Viewing 1 post (of 1 total)
  • You must be logged in to reply to this topic.