• جنت جیہیاں ٹھنڈیاں مِٹھیاں چھانواں نوں
    رب میریا کیوں کھو لینا ایں ماواں نوں
    روواں تَک تَک گھر دیاں ساریاں تھانواں نوں
    رب میریا کیوں کھو لینا ایں ماواں نوں
    *****
    جھوٹے مُنہ نال سانوں جِھڑکاں ماردی سی
    رُس کے وی ماں ساڈے کم سنوار دی سی
    چَیتے کر کر روئیے اُسدی وفاواں نوں
    رب میریا کیوں کھو لینا ایں ماواں نوں
    *****
    بُھل کے ساڈے سارے چنگے مندڑے نوں
    کَن ت…[Read more]

  • حسن و دولت ہیں عارضی آخر
    خاک ہونی ہے دلکشی آخر

    نام، منصب، عروج، شہرت بھی
    سب یہ ہوتے ہیں موسمی آخر

    کیوں رنجیدہ ہو انکے جانے پر
    پنچھی ہوتے ہیں ہجرتی آخر

    ایک جگنو میرا ہم نفس بنا
    چھٹ گئی ساری تیرگی آخر

    تلخ گوؤں کی ہار لازم تھی
    میں نے سادھی تھی خامشی آخر

    شام مجھ سے ادھار مانگی ہے
    تم بھی نکلے ہو مطلبی آخر

    آہ دل پر بھی لوگ واہ بولیں
    کیسی آفت ہے شا…[Read more]

  • ہیں سردیاں پلٹنے کو
    اب تم بھی پلٹنے کا سوچو
    تنہا گزرے کتنے موسم
    تم لوٹے نہ میرے ھمدم
    جن پر ھم سنگ سنگ چلتے تھے
    وہ راہیں ادھوری ھیں جاناں
    والہانہ لپٹنے کو تم سے۔۔۔
    میری بانہیں ادھوری ھیں جاناں
    میری آنکھیں رستہ تکتی ہیں
    اب پتھر بھی ہو سکتی ہیں
    اب اِتنا مجھے ستاٶ نہ
    تم جلدی لوٹ کے آٶ نا
    ہیں سردیاں پلٹنے کو
    اب تم بھی پلٹنے کا سوچو
    (طارق اقبال حاوی)

  • اپنی بیٹی “مناہل فاطمہ” کے نام پہلے جنم دن پر ایک نظم۔۔۔
    ****
    جنم دن کی مبارک ہو، مناہل فاطمہ بیٹی
    خوش رکھے خدا تم کو، مناہل فاطمہ بیٹی
    ****
    اسی دن میرے آنگن میں، خدا نے تم کو بھیجا تھا
    تیرا چہرہ، تیرا پیکر، بالکل پریوں جیسا تھا
    کلیوں سی مہک تیری، بسی پھر میری سانسوں میں
    میرے دل کو ملی ٹھنڈک ، اٹھایا جب تھا ہاتھوں میں
    ایسی سعادت اس سے پہل…[Read more]

  • جِنکے لفظوں میں ہیں کنکر، مزاج پتھر ہیں
    ایسے لوگوں کا تو، بس علاج پتھر ہیں

    واہ ری دولت، تو نہ رہی، تو میرے اپنے
    کبھی جو موم تھے، وہ سارے آج پتھر ہیں

    جس نے اِینٹیں اُٹھا کر، بنایا ہے بیٹا ڈاکٹر
    اُس مزدور کے تو، سر کا تاج پتھر ہیں

    کسی کا نام لکھنا، اور جھیل میں پھینکے جانا
    اِن دنوں میرا یہی، کام کاج پتھر ہیں

    برسے مجنوں پہ کبھی، ک…[Read more]

  • رونق میلے مُک جاندے نیں
    ساہ جس ویلے رُک جاندے نیں

    جیہڑے کہندے جان توں پیارا
    لَوڑ پوے تے لک جاندے نیں

    بیج کے جے نہ راکھی رَکھیئے
    طوطے فصلاں ٹک جاندے نیں

    موڈھے چوڑے نہ رَکھ بندیا
    پچھلی عُمرے جھک جاندے نیں

    لف جا جَھلیا، بچیا رہیں گا
    آکڑے کل سبھ ٹھک جاندے نیں

    کجھ نہیں ایتھے تیرا میرا
    سارے خالی بک جاندے نیں

    آپس وچ جے لڑئیے مرئیے
    دشمن فائدہ چُک…[Read more]

  • تو جتنا بھی خدا بن لے، بشر ہونا ہی ہے آخر
    قول و فعل کے سچ کو، نشر ہونا ہی ہے آخر
    (طارق اقبال حاوی)
    ستم مت ڈھا خداٸی پر، اور اتنا یاد رکھ غافل
    جس کا ہونا متعین ہے، حشر ہونا ہی ہے آخر

  • محسنِ پاکستان ”ڈاکٹر عبدالقدیر خان“ کی محبت میں کہا گیا ایک قطعہ۔۔۔

    سبھی اعزاز چھوٹے ہیں تیرے احسان کے آگے
    بھلا یہ قوم تیرے حق میں کیا اعزاز رکھے گی
    سلام اے میرے قائد…. تیری ہمت و جرات کو
    میرے محسن تیری خدمت تجھے ممتاز رکھے گی
    (طارق اقبال حاوی)

  • اساتذہ کرام کے عالمی دن پر ایک شعر۔۔۔

    جتنی بھی زمانے سے مجھے داد مِلی ہے
    میرا ایماں ہے کہ سب باعثِ استاد مِلی ہے
    (طارق اقبال حاوی)

    استاد ایک ایسی ہستی کا نام ہے جو کہ ایک آفتاب کی مانند ہوتی ہے، اور آفتاب بھی ایسا جو غروب ہونے سے پہلے اپنی ہستی کے ذروں یعنی تعلیمات، خدمات اور تربیت سے حقیر ذروں یعنی شاگردوں میں روشنی بھر کر انہیں روشن ستاروں…[Read more]

  • Tariq Iqbal Haavi posted an update 3 months ago

    محبت روشنی بن کر
    دِلوں میں جگمگاتی ہے
    مٹا دیتی ہے رنج و غم
    ہمیں جینا سکھاتی ہے
    کبھی جب رات بھاری ہو
    ذہن پہ کرب طاری ہو
    چھائی بدحواسی ہو
    اُداسی ہی اُداسی ہو
    سکوں اِک پل نہ حاصل ہو
    سانس لینا بھی مشکل ہو
    کوئی جب بات نہ سمجھے
    تیرے جذبات نہ سمجھے
    کسی جانب سے راحت کی
    کوئی نگاہ نہ آئے ۔۔۔
    نفرت کے اندھیروں میں
    نظر جب راہ نہ آئے
    تو پھ…[Read more]

  • Tariq Iqbal Haavi posted an update 3 months ago

    محبت روشنی بن کر
    دِلوں میں جگمگاتی ہے
    مٹا دیتی ہے رنج و غم
    ہمیں جینا سکھاتی ہے
    کبھی جب رات بھاری ہو
    ذہن پہ کرب طاری ہو
    چھائی بدحواسی ہو
    اُداسی ہی اُداسی ہو
    سکوں اِک پل نہ حاصل ہو
    سانس لینا بھی مشکل ہو
    کوئی جب بات نہ سمجھے
    تیرے جذبات نہ سمجھے
    کسی جانب سے راحت کی
    کوئی نگاہ نہ آئے ۔۔۔
    نفرت کے اندھیروں میں
    نظر جب راہ نہ آئے
    تو پھ…[Read more]

  • Tariq Iqbal Haavi posted an update 3 months ago

    محبت روشنی بن کر
    دِلوں میں جگمگاتی ہے
    مٹا دیتی ہے رنج و غم
    ہمیں جینا سکھاتی ہے
    کبھی جب رات بھاری ہو
    ذہن پہ کرب طاری ہو
    چھائی بدحواسی ہو
    اُداسی ہی اُداسی ہو
    سکوں اِک پل نہ حاصل ہو
    سانس لینا بھی مشکل ہو
    کوئی جب بات نہ سمجھے
    تیرے جذبات نہ سمجھے
    کسی جانب سے راحت کی
    کوئی نگاہ نہ آئے ۔۔۔
    نفرت کے اندھیروں میں
    نظر جب راہ نہ آئے
    تو پھ…[Read more]

  • Tariq Iqbal Haavi posted an update 3 months ago

    محبت روشنی بن کر
    دِلوں میں جگمگاتی ہے
    مٹا دیتی ہے رنج و غم
    ہمیں جینا سکھاتی ہے
    کبھی جب رات بھاری ہو
    ذہن پہ کرب طاری ہو
    چھائی بدحواسی ہو
    اُداسی ہی اُداسی ہو
    سکوں اِک پل نہ حاصل ہو
    سانس لینا بھی مشکل ہو
    کوئی جب بات نہ سمجھے
    تیرے جذبات نہ سمجھے
    کسی جانب سے راحت کی
    کوئی نگاہ نہ آئے ۔۔۔
    نفرت کے اندھیروں میں
    نظر جب راہ نہ آئے
    تو پھ…[Read more]

  • یہ رُت مِل کے بیتاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
    مِلن کے گیت گاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
    بہانے سو بنا کے ہم، سبھی سے چُھپ چُھپا کے ہم
    مِلنے آ ہی جاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
    بہت اُودھم مچاتے تھے، اِسقدر بھیگ جاتے تھے
    کہ گھنٹوں کپکپاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
    کچی راہوں میں چلتے تھے، پھسلتے تھے، سنبھلتے تھے
    کتن…[Read more]

  • میرا پرچم فخر میرا، میری پہچان پاکستان
    دھڑکن ہے میرے دل کی، میری جند جان پاکستان
    بن کے لہو میری، ہر اِک رَگ میں بستا ہے
    وفا و پاسداری ہے، میرا ایمان پاکستان
    دفاع تیرا مقدم ہے، جو تُو ہے ، تو سب کچھ ہے
    تیری حرمت کی خاطر سب، کروں قربان پاکستان
    وطن تُو جب پکارے گا، مجھے موجود پائے گا
    نچھاور تجھ پہ کردونگا، میں اپنی جان پاکستان
    مقدر ہو خوشحالی، و…[Read more]

  • ختم کرنے اگر ہیں غم دیوانی
    بیتے لمحوں کو سوچو کم دیوانی

    نہیں یہ عشق ہے، نادانیاں ہیں
    بہت کہتے تھے تم سے، ہم دیوانی

    بگڑ جائیں جو گھاﺅ عشق کے تو
    کوئی مِلتا نہیں مرہم دیوانی

    لوگ پڑھ لیں گے تو رسوا کریں گے
    کبھی آنکھیں نہ رکھنا نم دیوانی

    چلی جانا نہیں روکونگا پھر میں
    ذرا بارش تو جائے تھم دیوانی

    دیکھ کر ہونٹ تیرے کپکپاتے
    میرا گُھٹنے لگا ہے دم دیوا…[Read more]

  • Tariq Iqbal Haavi posted an update 5 months ago

    عجب باتیں کھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں
    میری سانسیں اَٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں

    محبت مر چُکی لیکن ، دل و دماغ میں اب تک
    تیری یادیں بھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں

    نہیں تعلق کوئی باقی، تو رُک کر کیوں میری جانب
    تیری آنکھیں مٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں

    نہیں پرواہ زمانے کی، مگر جو باتیں تم نے کیں
    مجھے یکدم جھٹکتی ہیں، مجھے…[Read more]

  • لگی ڈھلنے ہے پھر سے شام ساقی
    بنا کر دے ذرا اِک جام ساقی

    پِلا وہ جام جو مدہوش کر دے
    مِلے دل کو بھی کچھ آرام ساقی

    چلا آیا ہوں تیرے پاس جو میں
    نہیں مرنے سوا کچھ کام ساقی

    نہ اُس کا اور نہ اپنا بنا میں
    نہیں مجھ سا کوئی ناکام ساقی

    یونہی گِر کے سنبھلنا سیکھنا ہے
    سہارا دے مجھے نہ تھام ساقی

    دَورِ عُسرت میں مجھ سے ہے گریزاں
    اچھے وقتوں کا اِک ہ…[Read more]

  • حق دا نعرہ وَجنا حق اے
    ظالم اَگے گجنا حق اے
    چُپ جے سادھی جابر اَگے
    تِیر تینوں وی وَجنا حق اے
    یتیماں دا جے پِنڈا ڈھکیا
    فیر تیرا وی سجنا حق اے
    گیم شو وِچ کاراں ونڈن
    دِھی ماڑے دی کجنا حق اے
    گوانڈھی جے نہیں بھُکھے سُتے
    بندیا تیرا رجنا حق اے
    جے توُں ماپے راضی رکھے
    سجناں دا وی سجنا حق اے
    مار کے بندیا حق کسے دا
    جے کریں تُوں حج، ناحق اے
    (طارق اقبال حاوی)

  • Tariq Iqbal Haavi posted an update 6 months ago

    میرے پیکر میں تیری ذات کی تنصیب لازم ہے
    بہت بکھرا ہُوا ہوں میں، اور اب ترتیب لازم ہے

    عجب وادی ہے وحشت کی، اَٹی ہے دُھول نفرت کی
    گھر کو گھر بنانے کو، نئی ترکیب لازم ہے

    مدھر سے راگنی گائیں، چلو کہ جام چھلکائیں
    میرے گھر میں ہو آئے تم، کوئی تقریب لازم ہے

    جہاں پر چار ذہنوں میں، بھرا شر ہو، کدورت ہو
    تو ہو لاحق قبیلے کو، کوئی تخریب لازم ہے…[Read more]

  • Load More

Comments are closed.